Leadership of Imam Ayattullah Roohullah Khomaini

آیت اللہ روح اللہ خمینی

یوسف الماس

وہ دونوں خوش مزاج بھی تھے اور قادرالکلام بھی۔ قدرت نے دونوں کو علم بھی دیا تھا ۔ بڑے بھائی میں جوش کم ہوش زیادہ تھا۔ ساتھ میں علم کا تڑکا بھی لگا تھا۔ کچھ حالات نے انہیں سنجیدہ کر رکھا تھا۔ سید مرتضیٰ موسوی نام تھا ان کا۔

دوسرے بھائی روح اللہ موسوی تھے جو 24 ستمبر 1902ء میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی ایام اپنے گاؤں خمینی میں ہی گزرے۔ ولادت کے چند ماہ بعد 1903ء میں والد کسی لڑائی میں قتل ہوگئے۔ اب دونوں بھائی ماں اور خالہ کے پاس رہنے لگے۔ دونوں نے دل و جان سے ان کی پرورش کی۔ 1918ء میں علاقے میں ہیضہ کی وبا پھوٹ پڑی اور دونوں اللہ کے حضور پیش ہوگئیں۔ بڑے بھائی سید مرتضیٰ کی نگرانی میں آگئے۔ آیت اللہ لمبے قد اور مضبوط جسم والے تھے۔ کھیل کا میدان روز ان کی قابلیت کو چیلنج کرتا مگر وہ چیلنج کا جواب دینے والے تھے۔ ان کی لمبائی اور پُھرتی ان کے کام آئی اور وہ اپنی ٹیم کے چیمپئن بن گئے۔

تندرست جسم میں تندرست دماغ تھا۔ مضبوط اور تیز حافظہ تھا۔ نثر اور نظم کا بڑا حصہ انہیں زبانی یاد تھا۔ کلاسیکل شاعری، نظم، غزل خواہ وہ عربی میں ہو  یا فارسی میں، ان کو یاد تھی۔ جلد یاد کرنے والا یعنی تیز اور دیر تک یاد رہنے والا یعنی مضبوط حافظہ زندگی کے ہر میدان میں اہمیت رکھتا ہے۔ 1920ء میں بڑے بھائی نے ان کی قابلیت کی وجہ سے قُم میں آیت اللہ حائری کے پاس بھیج دیا۔ ایک عرصے تک ان کے پاس رہ کر روایتی دینی علوم اور دیگر عصری علوم پڑھے۔ 1930ء میں شیخ حائری کی وفات کے بعد ان کے شاگرد شیخ بوروجیروی آیت اللہ کے منصب پر فائز ہوگئے۔ یہ دونوں حضرات مذہب اور سیاست کوالگ الگ رکھنے کے قائل تھے اور کھلے عام کہتے تھے۔ اس وقت کے ایرانی حکمران رضاشاہ نے اسی سوچ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ملک میں مذہب کوکمزور کردیا تھا اور سیکولرازم کو پروان چڑھا رہا تھا۔ روح اللہ موسوی جو اب روح اللہ خمینی کہلاتے تھے،ان کا نقطہ نظر اپنے دونوں بزرگوں سے مختلف تھا۔ وہ مذہب اور سیاست کو ایک ساتھ لے کر چلنے کے قائل تھے اور اس کو درست اسلامی نظریہ سمجھتے تھے۔ مگر حالات کی نزاکت اور دونوں بزرگوں کے احترام کی وجہ سے خاموش تھے۔

1950ء میں شاہ کی بڑھتی ہوئی سیکولر پالیسیوں کی وجہ سے ایران میں ہنگامے اور مظاہرے شروع ہوگئے۔ ان میں شدت بھی بہت تھی۔ رضاشاہ نے امریکہ سے مدد طلب کی۔ دونوں نے مل کر فوجی طاقت کے ساتھ انہیں کنٹرول کیا۔ ان سب حالات میں بڑی مذہبی شخصیات خاموش تھیں۔ ایسے میں روح اللہ خمینی کے لیے بولنا مشکل اور حکمت کے خلاف تھا۔ اس موقع پر انہوں نے خاموش رہنا زیادہ مناسب جانا اور اپنی توجہ درس و تدریس کی طرف کرلی۔ ملک کے نوجوانوں کو ہدف بنایا۔ ان میں اپنی سوچ کے پودے اگائے اور ان کی آبیاری کی۔ جگہ جگہ خطابات کیے، رسائل و جرائد میں مضامین لکھے۔ یوں پورے ملک میں ان کی شخصیت کا تعارف بھی پہنچ گیا اور سوچ اور فکر بھی۔ اس ساری محنت کا مقصد باصلاحیت نوجوانوں کو تیار کرنا تھا۔

 ادھر 31مارچ 1961ء کو آیت اللہ بوروجیروی انتقال کر گئے۔ ملک میں خلا پیدا ہوگیا۔ گزشتہ عرصے میں روح اللہ خمینی نے علماء اور عوام میں اچھی جڑیں بنا لی تھیں۔ 1962ء میں انہوں نے شاہ کے ارادوں اور پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنانا شروع کردیا۔ یہ وہ پہلا عوامی اقدام تھا جو خمینی صاحب نے انقلاب کی جانب اٹھایا۔ جون 1963ء میں خمینی نے شاہ کے خلاف پہلی کھلی تقریر کی اور واضح طور پر کہا کہ اگر شاہ اپنی پالیسیوں کو بدل نہیں سکتا تو پھر ایران چھوڑ جائے، یہاں کے عوام خوش ہوں گے۔ اس تقریر پر انہیں گرفتار کر لیا گیا۔ ملک میں گرفتاری کے خلاف ہنگامے شروع ہوگئے۔ فوجی طاقت استعمال کی گئی اور عوام کو دبایا گیا۔ اپریل 1964ء میں رہا ہوئے اور امریکہ اور اسرائیل کے بارے میں نرم پالیسی کا مطالبہ کیا گیا۔ مگر امام خمینی نے پھر حکومت اور شاہ کے خلاف تقریریں شروع کردیں۔

شاہ حکومت نے بہتر سمجھا کہ اب انہیں گرفتار کرنے کی بجائے ملک بدر کرنا چاہیے۔ لہٰذا انہیں ترکی بھیج دیا گیا مگر ترکی نے ان کے حلیے اور اسلامی لباس وغیرہ کی وجہ سے لینے سے انکار کردیا تو وہاں سے نجف عراق بھیج دیا گیا۔ اگلے 13 سال نجف میں رہے۔ کسی بھی لیڈر کے لیے اس طرح کا وقت جہاں ابتلاء اور آزمائش ہوتی ہے وہاں سوچنے ، غور و فکر کرنے، اپنے منصوبے کو عملی شکل دینے ،  اس کی تفصیلات طے کرنے اور اپنی صف بندی کا بھی بہترین موقع ہوتا ہے۔ امام خمینی نے بھی آنے والے وقت کی تفصیلات، اسلامی ریاست کی جزئیات انہی 13 سالوں میں ہی مرتب کیں۔ اپنی ٹیم اور پورے ملک میں انقلاب لانے والے پاسداران اسی زمانے میں تیار ہوئے۔ مختصر سائز کا لٹریچر تیار کرکے ایران بھیجا گیا۔ آڈیو اور ویڈیو کیسٹیں تیار کیں اور سمگل کرکے ایرانی بازاروں اور تعلیمی اداروں میں پہنچائی گئیں۔ امام خمینی تھے تو ملک سے باہر مگر حقیقت میں حزبِ اختلاف کے سب سے مقبول رہنما بن چکے تھے۔ عوام میں اور نوجوانوں میں ان کا لٹریچر اور تقریریں بھاپ بنا رہی تھیں۔ یہ پریشر پھٹنے کے لیے اپنی مدت پوری کر رہا تھا۔ 1975ء میں ایک اسکول میں بچے تین دن تک بند رہے اور پھر ان معصوم بچوں پر بھی فوجی ایکشن کیا گیا۔ امام خمینی نے موقع دیکھ کر کاری ضرب لگائی اور بچوں کی حمایت کرتے ہوئے اعلان کیا کہ ہم سامراج سے آزادی چاہتے ہیں۔ یوں دونوں طرف شدت آرہی تھی۔ 1978ء میں ایرانی حکومت نے محسوس کیا کہ خمینی کا پڑوس ( عراق) میں بیٹھنا ٹھیک نہیں لہٰذا انہوں نے عراقی حکومت پر دباؤ بڑھا دیا کہ انہیں نکالیں۔ عراقی حکومت نے دو اختیارات دیئے۔ آپ سیاسی سرگرمیاں بند کریں یا عراق چھوڑ دیں۔ انہوں نے عراق چھوڑ کر فرانس کا رخ کیا۔ اب وہاں سے زیادہ کھل کر اپنا دفاع کرسکتے تھے اور اپنا نقطہ نظر بھی بہتر انداز سے پہنچا سکتے تھے۔ اس سارے وقت میں سب اچھا نہیں تھا۔ ہر طبقے میں ان کی شدید مخالفت بھی تھی، الزامات کی بوچھاڑ بھی۔

اب 1979ء کا سال ہے اور واقعات میں شدت آگئی۔ طلبہ، نوجوان، متوسط طبقہ ، تاجر ، بعض فوجی اور بیوروکریٹ امام خمینی کی حمایت میں میدان میں آگئے۔ ایران بحران کا شکار تھا۔ شاہ پہلوی نے امریکہ کی طرف دیکھا مگر حالات بدل چکے تھے۔ انقلاب ایران کے دروازے پر دستک دے رہا تھا۔ اب کسی کے بس میں نہیں رہا تھا۔ امام خمینی کو سپریم کمانڈر مان لیا گیا تھا۔ پورے عزت و احترام کے ساتھ وطن واپس لوٹے، جہاز سے نکلے تو سر نیچے اور ہاتھ سے سلام کرتے ہوئے ایران کی سرزمین پر قدم رکھا۔ ان کا نظریہ برسرِ زمین کامیابی حاصل کرچکا تھا۔ دینی علوم کے علاوہ سوشیالوجی اور سائیکالوجی اور سیاسیات کا علم اپنی وسعت متعین کر چکا تھا۔ جراءت و شجاعت اور عقلمندی اور سمجھداری اپنا لوہا منوا چکی تھی۔ لوگوں کے والہانہ پیار اور چاہت نے ان کی لیڈرشپ پر مہر لگا دی تھی۔

امام خمینی ایران پہنچے تو شاہِ ایران فرار ہوچکا تھا۔ سب سے پہلے تو سول اور فوجی سروسز میں جو بھی اس کے حمایتی تھے ان سب کو قتل کردیا ، بہت کم لوگوں نے فرار ہوکر جان بچائی۔ یہ صفائی انقلاب کے استحکام کے لیے شاید ضروری ہوگی۔ امریکہ چونکہ کئی طرح کی سازشوں میں شامل تھا ، اس کا علاج یوں ہوا کہ امریکی سفارتخانے کے 60 سفارت کاروں کو یرغمال بنا لیا گیا۔ اس کے بعد چار اہم کام پالیسی کے طور پر کیے گئے۔ پہلا، میڈیا کو مکمل طور پر کنٹرول کیا گیا۔ اسے یہ بات سمجھا دی گئی کہ یہ ملک ہم سب کا ہے، اس کے خلاف کوئی بات نہیں ہوسکتی۔ دوسرا، ہر مخالف آواز کو خاموش کروا دیا گیا۔ وہ انقلاب مخالف ہو یا سیکولر۔ تیسرا، اسکول، کالج اور یونیورسٹیز میں اپنے عقائد اور نظریات کو عام کیا اور ان کا نصاب نیا تیار کروایا۔ چوتھا، حکومتی مشینری گاؤں سے لے کر قصبہ، شہر، ضلع، صوبہ اور مرکز تک ہر جگہ مخالف نظریات کے تمام افراد کو نکال باہر کیا اور ہر جگہ اور ہر سطح پر اپنے نظریات کے حامل لوگوں کو بھرتی کردیا۔ ہر دفتر میں انہی لوگوں کی بھرمار تھی۔

ان اقدامات کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ قوم ایک نقطے پر یکسو ہوئی اور اس میں طاقت آگئی۔ اختلاف رائے تقریباً ختم ہوگیا۔ سمت متعین ہوگئی۔ انقلاب ایران سے باہر جانے کی تیاریاں کرنے لگا۔ اتنے میں 22 ستمبر 1980ء کو عراق نے حملہ کردیا۔ پھر تھوڑے تعطل کے بعد 1982ء میں دوبارہ حملہ کردیا اور اب 6 سال تک جنگ جاری رہی۔ 1988ء میں اقوام متحدہ نے جنگ بندی کروائی تو امام خمینی نے کہا یہ جنگ بندی زہر سے زیادہ جان لیوا ہے۔ 1989ء میں سلمان رشدی کے قتل کا فتویٰ دیا اور 3جون 1989ء میں ان کی مہلت عمل ختم ہوئی اور دنیا سے رخصت ہوئے مگر ان کا کام لمبے عرصے تک ایران اور دیگر ممالک میں اپنے اثرات قائم رکھے گا۔ یہ وہ لیڈر تھا جس نے نظریے کی بنیاد پر جدوجہد شروع کی اور ہر طرح کے نشیب و فراز سے گزر کر عملی کامیابی تک پہنچے۔

#yousufalmas #leadersship #careercounselor #Eduvision #careercounselling #career #careerdevelopment


Comments

Leave a Reply