موسیٰ کھیلنا اور اچھلنا چاہتا ہے

( چار سے سات ماہ کے بچوں کی باتیں)

موسیٰ چار ماہ کی عمر سے آگے نکل آیا ہے۔ اٹھنا اور بیٹھنا اس کی خواہش ہے۔ جو چیز نظر آئے اس تک پہنچنا اس کی تمنا ہے۔ ان تمام خواہشات و تمناؤں کی تکمیل رول ہو کر پنچنے  کے سوا  کچھ ممکن نہیں۔ لہٰذا موسیٰ بیداری میں دو ہی کام کرے گا۔ ایک اپنے پیٹ کی ضروریات پوری کروانا، دوسرے رول ہو کر آگے سے آگے جانا۔ والدین کے لیے یہ باتیں  خوشی اور مسرت کا باعث بھی بنتی ہیں اور ذمہ داری بھی۔

موسیٰ تو حرکت کرے گا۔ اسے تو ہر نظر آنے والی چیز حاصل کرنی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ اس کے والدین اسے کتنی محفوظ جگہ دیتے ہیں اور خوبصورت چیزیں۔جو  پُرکشش بھی ہوں اور موسیٰ کے لیے محفوظ بھی۔ اس مرحلے پر موسیٰ کو کھلونا نہیں بنانا بلکہ اس کے کھیل کا انتظام کرنا ہے۔ اسے سہولت دینی ہے اور مدد بھی تاکہ اسے اس کی چیز ملے اور اس کے دل اور دماغ پر مثبت تصور ثبت ہوجائے۔

موسیٰ کی زندگی اور دلچسپیاں

اب تک بچے پیٹ کے بل لیٹتے ہوئے اپنے سر اور سینے کو اوپر اٹھا سکتےہیں۔ وہ بازوؤں کو سیدھا کرکے سینے اور کمر کے پٹھوں کا استعمال کرکے اپنے سر اور سینے کو مزید اٹھانا شروع کردیتےہیں۔ بالکل اسی طرح موسیٰ نے اب اپنی ٹانگوں کو ہلانا اور اپنی تمام تر حرکات و سکنات کا مرکز و محور پیٹ کو بنانا شروع کردیا ہے۔ اس طرح وہ لڑھکنے اور رینگنے کے لیے تیاری مکمل کر رہا ہے۔

اس دوران موسیٰ ممکنہ طور پر دونوں سمتوں  میں گھومنا سیکھ لے گا۔ لہٰذا اب اس کے والدین کو چاہیے کہ وہ اسے مکمل نگرانی میں رکھیں۔ وہ نئی نئی حرکتیں سیکھے گا بھی اور کرے گا بھی ، لہٰذا وہ بیڈ  یا صوفے سے گر سکتا ہے۔ جب پہلی بار رینگے گا تو والدین کی خوشی کی بات ہوگی۔ تھوڑی حیرانگی بھی ہوگی۔

موسیٰ کا اگلا مرحلہ اپنی گردن کو سیدھاکرنااور کمر کی ہڈی کو مضبوط کرنا ہے۔ اس کو اگر مدد دی جائے تو وہ سہارے کے ساتھ بیٹھنے کی کوشش میں ہوگا۔ وہ بازو پھیلا کر اور آگے کی طرف جھکنا سیکھے گا۔ اس طرح وہ بغیر سہارے کے اعتماد کے ساتھ اٹھنے اور بیٹھنے کی کوششوں میں ہے لیکن پھر بھی اسے مددکی ضرورت ہے۔

اس کے بعد موسیٰ کو کھڑے ہونا ہے۔ اس کی ٹانگیں مضبوط ہورہی ہیں۔ آہستہ آہستہ وہ ٹانگوں پر وزن ڈالنا سیکھ لے گا۔ پس اسے کھڑے ہونے پر مجبور نہ کیا جائے۔ بعض بچے جسم میں ہلکے ہوتے ہیں اور بعض بھاری ، لہٰذا کوئی جلدی کھڑا ہوتا ہے اور کوئی دیر سے۔ عمومی طور پر شیر خوار بچے اس عمر میں کھڑے ہونے اور اچھالنے میں لطف محسوس کرتے ہیں۔

               اب موسیٰ چھ ماہ کا ہونے والا ہے۔ اب اسے اپنے ہاتھوں کا زیادہ سے زیادہ استعمال سیکھنا ہے۔ قدرت نے اس کے اندر فطرتاً یہ بات رکھ  دی ہے کہ جو نظر آئے اسے پکڑ لو۔ پکڑنے کے لیے اس تک پہنچنا بھی اپنی مرضی سے اچھا لگتا ہے ۔ ورنہ ہم روئیں  گے ۔ جو چیز ہاتھ آئے گی، اسے ہم ایک سے دوسرے ہاتھ میں منتقل کریں گے۔ بازو کپکپائیں گے بھی ، ہوسکتا ہے راستے میں خیال آئے تو ہم منہ میں لے جائیں ۔ منہ تو پھر ہماری لییبارٹری ہے جہاں ہر چیز چیک ہوتی ہے۔ یوں موسیٰ کو اٹھانا سیکھنا ہے اور ذائقہ بھی لینا ہے۔

اس عمر میں موسیٰ کو آوازوں اور چیزوں کی ساخت بھی جاننی ہے۔ اب اس کے والدین کو چاہیے کہ وہ بہت سارے کھلونے لائیں۔ جنہیں آسانی سے پکڑا جاسکے، ہلایا جاسکے اور دریافت بھی کیا جاسکے۔ یہ چھوٹے نہیں ہونے چاہئیں اور نہ ہی باریک جو منہ میں چلے جائیں۔ منہ میں جاکر پھنس سکتےہیں اور دم گھٹنے کا مسئلہ بھی پیش آسکتا ہے۔  اس پہلو سے والدین کو کڑی نظر رکھنی چاہیے۔ اس مرحلے پر موسیٰ کو آوازوں اور چیزوں کی پہچان کرانا  ہی مقصود ہے۔

اب موسیٰ کے والدین کے لیے ضروری ہے کہ اسے کھیلنے کے لیے محفوظ جگہ دیں، جہاں پسندیدہ کھلونے اس کے سامنے ہوں تاکہ وہ تھوڑی سی کوشش سے ان تک پہنچ جائے۔ موسیٰ کے والدین کو چاہیے کہ وہ اسے حوصلے سے پیٹ کے بل کھیلنے دیں۔ اس پوزیشن میں اس کے سامنے بیٹھ کر بچے کی حوصلہ افزائی کرنا چاہیے۔ تاکہ وہ اپنا سر اور سینہ اوپر اٹھائے۔ بچے کو آمادہ کرنے کے لیے شور کریں اور اوپر اٹھائیں۔ اس کو ترغیب  دینےکے لیے اس کے سامنے پسندیدہ اور پر کشش کھلونے رکھیں۔

موسیٰ کی اگلی ضرورت سہارا دے کر یا پیٹھ پیچھے تکیہ رکھ کر بیٹھنے کی مشق ہے۔ اس پوزیشن میں بچے کے ہاتھ بالکل آزاد ہوجاتے ہیں۔ وہ کھلونوں تک پہنچنے اور انہیں تلاش کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ فطری تجسس جتنا بڑھے گا اتنی اس کی ذہانت بڑھے گی۔ اس کے سامنے جتنی چیزیں لائی جائیں سب پرکشش تو ہوں مگر تعلیمی اور تربیتی بھی ہونی ضروری ہیں  ۔ اس کے والد کو  چاہیے کہ کوشش کرکے، کئی دوکانیں گھوم کر اس کے لیے ایسی چیزیں لائیں جو اس کی ذہنی اور جسمانی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے میں اس کی مدد کریں  ۔

اللہ تعالیٰ نے اس کی فطرت میں یہ بات رکھی ہے کہ بیٹھنے کے فوراً بعد وہ کھڑا ہونا چاہتا ہے۔ موسیٰ کو پھر اپنے بڑوں کی ضرورت ہے، جو اس کے ہاتھوں میں انگلیاں دے کر اسے پکڑیں اور کھڑے ہونے میں مدد دیں۔ ایک دفعہ کھڑا کرکے بٹھا دیں مگر بٹھانے سے پہلے دو ، تین بار اسے اچھالیں تاکہ اس کا دل خوش ہو۔

چار سے سات ماہ کے بچوں کے ساتھ یہ جسمانی سرگرمیاں ( پیٹ کے بل رینگنا، بیٹھنا اور کھڑا ہونا) تقریباً تمام والدین  کر رہے ہوتے ہیں مگر لاشعوری طور پر، اصل اثرات اس وقت سامنے آتے ہیں جب یہ بظاہر عام سی چیزیں بھی شعوری طور پر کی جائیں۔ زندگی کے اگلے مشکل مراحل  میں آج کی یہ سرگرمیاں بہت مدد کرتی ہیں۔ پیشہ وارانہ زندگی کی کامیابی پر بھی موسیٰ کی اس تربیت کا رنگ غالب رہے گا۔ والدین کا آرام ضرور خراب ہوتا ہے  مگر نسلیں سنور جاتی ہیں۔

عمومی طور پر اس عمر کے بچوں کو اسی طرح کرنا چاہیے۔ بعض بچے تھوڑے تیز اور بعض آہستہ ہوتے ہیں ۔ لیکن کوئی بچہ اگر بہت زیادہ آہستہ ہے تو پھر ڈاکٹر سے چیک کروانا چاہیے تاکہ کسی قسم کی غیر معمولی حالت کو بروقت دیکھا جاسکے۔ غذا میں کسی کمی بیشی کی ضرورت ہو یا کسی دوسری تبدیلی کی تو اسے کیا جاسکے۔


Comments

Leave a Reply