“پاکستانیو! اس چینی کہاوت سے ہی سیکھ لو۔”

گزشتہ دنوں ایک جذباتی  اور بظاہر قوم کے درد سے بھرپور کسی دانش ور کا ایک مَضمون پڑھنے کو ملا جو دھڑادھڑ فیسبک اور واٹس ایپ پر شیرکیا جارہا تھا- میرے سامنے بھی آیا ۔ مجھے اس فلسفے سے ہی اختلاف ہے ۔  کیریئر کونسلر ہونے کی حیثیت سے میں نے ضروری سمجھا کہ اس پر قلم اٹھایا جائے ۔ میں نے اصل مضمون کے حصے بھی دیے ہیں اور اپنا مؤقف بھی واضح طور پر لکھا ہے ۔  مضمون نگار شروع یہاں سے کرتے ہیں۔
” آپ دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں ، بی ای، بی کام، ایم کام، بی بی اے، ایم بی اے، انجینئرنگ کے سینکڑوں شعبہ جات میں بے تحاشہ ڈگریاں اور اس کے علاوہ چار چار سال تک کلاس رومز میں GPA کے لیے خوار ہوتے لڑکے لڑکیاں کون سا تیر مار رہے ہیں؟
آپ یقین کریں ہم صرف دھرتی پر ” ڈگری شدہ” انسانوں کے بوجھ میں اضافہ کررہےہیں۔ یہ تمام ڈگری شدہ نوجوان ملک کو ایک روپے تک کی پروڈکٹ دینے کے قابل نہیں ہیں۔ ان کی ساری تک و دو اور ڈگری کا حاصل محض ایک معصوم سی نوکری ہے اور بس۔
ٹیوٹا، ڈاہٹسو، ڈاٹسن، ہینو، ہونڈا، سوزوکی، کاواساکی، لیکسس، مزدا، مٹسوبشی، نسان، اسوزو اور یاماہا یہ تمام برانڈز جاپان کی ہیں جبکہ شیورلیٹ، ہونڈائی اور ڈائیوو جنوبی کوریا بناتا ہے۔ آپ اندازہ کریں اس کے بعد دنیا میں آٹوموبائلز رہ کیا جاتی ہیں؟ آئی ٹی اور الیکٹرونکس مارکیٹ کا حال یہ ہے کہ سونی سے لے کر کینن کیمرے تک سب کچھ جاپان کے پاس سے آتا ہے۔
آگے جاکر وہ یہ کہتے ہیں کہ “آپ فلپائن کی مثال لے لیں ۔ فلپائن نے پورے ملک میں ” ہوٹل مینجمنٹ اینڈ ہاسپٹلٹی ” کے شعبے کو ترقی دی ہے ۔اپنے نوجوانوں کو ڈپلومہ کورسسز کروائے ہیں اور دنیا میں اس وقت سب سے زیادہ ڈیمانڈ فلپائن کے سیلز مینز / گرلز ، ویٹرز اور ویٹرسسز کی ہے ۔ حتی کے ہمارا دشمن بھارت تک ان تمام شعبوں میں بہت آگے جاچکا ہے۔”
مضمون نگار کا سارا زور اس بات پر ہے کہ ” اب  ڈگری کی وقعت کچھ نہیں بلکہ اب ہمارے نوجوانوں کو ٹیکنیکل اور ووکیشنل ڈپلومہ اور سرٹیفیکیٹس کرنے چاہییں۔ ویسے سب کے علم میں ہونا چاہیےکہ  4 سال کلاس روم میں بیٹھنے کے بعد اگر کو ئی کچھ کرنے کے قابل نہیں ہوتا تو اس کا قصوروار آج کا طالب علم نہیں ، کوئی اور ہے ۔ کم از کم ہماری نوجوان نسل کو مایوس کرنے کی بجائے درست راستہ دیکھایا جائے۔ “
اس مضمون نے میری  معلومات میں اضافہ بھی کیا ہے اور میں یہ جان کر خوش ہوں کہ کام بہت آسان ہو گیا ہے ، مثلا   ٹیوٹا ، ڈاٹسن، ہونڈا  وغیرہ کی گاڑیاں مکینیکل انجینئرنگ کی باقاعدہ ڈگری کیے بغیر ہی بنائی جاسکتی ہیں۔ یہ بات بھی سامنے آئی کہ اسکلڈ  ورک فورس یعنی ٹیکنیشن حضرات ملکی ترقی میں زیادہ اہم کردا ادا کرتے ہیں۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ حضرات معمول کی مرمت سے زیادہ کام نہیں کرسکتے۔ انجن کو ڈیزائن نہیں کرسکتے۔ ڈرائنگ کو سمجھ نہیں سکتے ۔  خوبصورت اور ماحول دوست باڈی نہیں بنا سکتے اور نہ ہی الیکٹرومکینیکل سسٹم بنانا ان کے بس کی بات ہے۔ حتیٰ کہ اس سائنس کو سمجھنا ہر کسی کے بس میں نہیں ہوتا۔دراصل  یہ  لوگوں کی آنکھوں میں مٹی ڈالنے اور کمزور کو کمزور تر کرنے والوں کی سوچ ہے۔
آئیے، جاپان، جنوبی کوریا اور دیگر ممالک کی ترقی کے راز کو سمجھنے کی کوشش کریں جن کا انہوں نے حوالہ دیا ہے  تاکہ حقیقت زیادہ واضح ہوجائے۔ چین، جرمنی، جاپان، جنوبی کوریا اور امریکہ دنیا کے وہ پانچ ممالک ہیں جہاں سب سے زیادہ ریسرچ ہورہی ہے۔ 2018ء میں پیٹنٹ سب سے زیادہ انہی ممالک سےرجسٹرہوے –ایپلیکیشن ڈیزاین کیٹیگری میں بھی جنوبی کوریا دنیا بھر میں تیسرے نمبر پر ہے۔  اگر ایشیا کی بات کی جائے تو کوریا، چین اور جاپان سب سے آگے ہیں۔ مزید یہ کہ کوریا کا نمبر سب سے اوپرہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان ملکوں میں اعلیٰ سطح کی سائنسی تحقیق اور کام اس طریقے سے ہورہا ہے ۔ یہ ممالک ایسے ہی آگے نہیں چلے گئے،دن رات محنت کی گئی ہے، سائنسی تحقیق پر بے دریغ خرچ کیا گیا ہے۔ 2016ء کے اعداد و شمار کے مطابق امریکہ نے 511 بلین ، چین 451 بلین، یورپ 379 بلین، جاپان 165 بلین، جرمنی 118 بلین اور جنوبی کوریا 91 بلین ڈالرصرف ریسرچ(ہائر ایجوکیشن کے باقی اخراجات اس کے علاوہ ہیں) پر خرچ کیے۔ کیا یہ سارا ٹیکنیکل ایجوکیشن کے لیے تھا۔ جاپان اور کوریا کی یہ رقم ان کے جی ڈی پی کا 3.14اور4.29٪ بنتا ہے۔ جبکہ صاحب مضمون ہمارے نوجوانوں کو سبق دے رہے ہیں ایلمینٹری اداروں میں ٹیکنیکل تعلیم حاصل کرنے کا ۔  
مضمون نگار آگے لکھتےہیں:
” ایل جی اور سام سنگ ، جنوبی کوریا سپلائی کرتا ہے ۔ 2014ء میں سام سنگ کا ریونیو 305 بلین ڈالرز تھا۔ ” ایسر” لیپ ٹاپ تائیوان بنا کر بھیجتا ہے جب کہ ویتنام جیسا ملک بھی ” ویتنام ہیلی کاپٹرز کارپوریشن” کےنام سے اپنے ہیلی کاپٹر اور جہاز بنا رہاہے۔ محض ہوا، دھوپ اور پانی رکھنے والا سنگا پور ساری دنیا کی آنکھوں کو خیرہ کر رہاہے اور کیلیفورنیا میں تعمیر ہونے ولا ہسپتال بھی چین سے اپنے آلات منگوا رہا ہے۔ خدا کو یاد کرنے کے لیے تسبیح اور جائے نماز تک ہم خدا کو نہ ماننے والوں سے خریدنے پر مجبور ہیں”۔
ان کا کہنا ہے کہ ویت نام ہیلی کاپٹرز دے رہاہے۔ او میرے  خدایا ، کیا اب ٹیکنیشنز  ہیلی کاپٹرز بھی بنائیں گے۔ مضمون لکھنے والے صاحب کو جاننا چاہیے کہ دنیا  th5  جنریشن جنگی جہاز تیار کررہی ہے اور جاپان تو  th6 جنریشن جہاز کی تیاری کر رہا ہے۔ ہمیں یقیناً بہت خوشی ہوگی اگر کوئی بتائے کہ فلاں ٹیکنیشنth  6  جنریشن جہاز کے ڈیزائن اور تیاری میں کوئی کردار ادا کرسکتا ہے۔ حتیٰ کہ کوئی ٹیکنیشن th5  جنریشن جہاز کی خصوصیات ہی بتا دے۔ استعمال ہونے والا سٹیلتھ خصوصیات کے حامل مٹیریل کے لیے کی جانے والی ریسرچ ، ریڈار سسٹم کی ڈویلپمیٹ،  جدید ترین خصوصیات کی حامل ایونکس وغیرہ ، کیا اسکلڈ ورک فورس کا کمال ہے یا پی ایچ ڈی اور پوسٹ ڈاکٹریٹ ریسرچ کا۔ آخر میرے ملک کے نوجوانوں کو کیا بنانےکی کوشش کی جا رہی ہے ۔
اس کے بعد مضمون نگار نے دنیا کے تین تعلیمی نظاموں کا حوالہ دے کر پاکستان پر تنقید کرتے ہوئے ٹیکنیکل ایجوکیشن کا مشورہ دیا ہے ، انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ کوریا اور جاپان میں “Massive Higher Education System ” ہے۔ کوریا میں 18 سال کی عمر میں پہنچنے والے تمام بچوں میں 12 سالہ تعلیم مکمل کرنے والوں کی تعداد 97٪ ہے۔ان میں سے 81٪ ہائر ایجوکیشن کی طرف جاتے ہیں۔  جاپان میں یہ شرح تقریبا 64 ٪ ہے ۔ جبکہ ہماراہائر ایجوکیشن کا انرولمنٹ ریٹ صرف9 اعشاریہ 9 فیصد  ہے جو کہ یمن جیسے ملک سے بھی کم ہے، اور ستم یہ کہ اس کے باوجود محترم مصنف نوجوانوں کو مزید تعلیم سے دور کرنے کے درپے ہیں۔
آخر میں صاحب مضمون سنگاپور کے ایک ووکیشنل انسٹی ٹیوٹ کا حوالہ دے کر کلاس روم اور انڈسٹری  میں عملی زندگی کا ذکر کرتے ہیں ، ہاں، کلاس روم اور انڈسٹری کا درمیانی فاصلہ کم ہونا چاہیے۔ یہ فاصلہ جتنا کم ہوگا، اتنا ہی بہتر ہے لیکن اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں لیا جاسکتا کہ کوئی اٹھے اور قوم کے نونہالوں کو ہائر ایجوکیشن سے ہٹا کر ٹیکنیکل ایجوکیشن پر لگا دیا جائے۔
پاکستانیوں کو کوئی سبق دینا ہی تھا تو  اس مضمون میں مکینک ذہنیت کی بجائے اعلی تعلیم کی طرف راغب کیا جاتا ۔ سوشل سائنٹسٹ اور اعلی سطح کے ریسرچر بننے کے لیے قربانی کا جذبہ ابھارا جاتا ۔ بہترین ماہر تعلیم بننے کا شوق پیدا کیا جاتا ۔ نوکر بننے کی بجائے دور بین نگاہ رکھنے والے قائد بننے کا راستہ دیکھا یا جاتا ۔ قابل سائنس دان بننے کی تجویز دی جاتی ۔ پالیسی ساز بننے کا ذکر کیا جاتا ۔ 4 سال میں قابل فخر نوجوان تیار کرنے والے اساتذہ کا حوالہ آتا ۔  ہونا یہ چاہیے تھا کہ ہائر ایجوکیشن  ریفارمز ، ہر بچے کی لازمی کیریئر پلاننگ کا اہتمام ، زیادہ سےز یادہ تعلیمی مواقع، ہائرایجوکیشن بجٹ، ریسرچ اور ڈیویلپمنٹ کا بجٹ، انکیو بیشن سنٹرز، لازمی تعلیم، مفت تعلیم، ایک جیسی تعلیم پر بات کی جاتی ۔ اسی طرح میٹرک اور انٹر تک رہ جانے والوں کے لیے ٹیکنیکل اور ووکیشنل تعلیم کا بھی حوالہ آتا  اور درست رہنمائی پر بات کی جاتی تاکہ کوئی نسٹ میں مکینیکل انجینئرنگ کی قابلیت رکھنے والےنوجوان کو ایف ایس سی کے بعد تعلیم کو خیرآباد کہہ کرstartup کے نام پراسلام آبادمیں چائے کا ڈھابا یا فروٹ کی دوکان کا مشورہ نہ دیتا۔
مضمون کے مصنف بالکل دوسری بات کہہ رہے ہیں۔ ان کا آئیڈیا اور سارا زور ٹیکنیکل ایجوکیشن پر ہے جس کا نتیجہ زیادہ سے زیادہ مزدوروں کی فراہمی ہے اور ہائر ایجوکیشن کو ریسرچ سے دور کرنا ہے۔ پھر ہر طرف ہمیں مکینک، پلمبر اور ٹیکنیشن ہی نظر آئیں گے۔  یاد رکھیں یہ ڈپلومے اور سرٹیفیکیٹس قوموں کو ترقی نہیں دے سکتے  اور نہ ہی یہ چینی کہاوت ۔
آخری بات یہ ہے کہ اللہ کے لیے اس قوم پر رحم فرمائیں۔ ہر لکھنے والا یا بولنے والا اس قوم کے طلبہ  و طالبات اور نوجوانوں کو امید کے ساتھ درست راستہ دکھائیں جو انہیں اس قابل بنائے کہ دنیا  میں عزت کے ساتھ خود بھی زندہ رہیں اور اس ملک کو بھی مضبوط بنائیں۔ 
یوسف الماس
کیریئر کونسلر اور ایجوکیشنل ایڈوائزر
سی ای او – ایجوویژن  ، پاکستان