غیرنصابی سرگرمیاں

کلاس روم کی شخصیت اور کلاس روم سے باہر کی شخصیت میں فرق واضح کرنے والی چیز غیرنصابی سرگرمیاں ہی ہیں۔ آپ میں کتنی قائدانہ صلاحیتیں ہیں اور کتنی سماجی قابلیتیں ہیں، یہ اس وقت معلوم ہوتا ہے جب آپ کلاس روم سے باہر کسی کام میں شرکت کرتے ہیں۔ ان سرگرمیوں کی پروفائل بننے میں سال لگتے ہیں مگر ان کے اثرات زندگی بھر رہتے ہیں۔ جو بچے اسکول اور کالج میں ان سرگرمیوں میں شریک رہتے ہیں وہ یونیورسٹی میں بھی اعلیٰ مقام حاصل کرتے ہیں اور عملی زندگی بھی بہت آسان ہوجاتی ہے۔ غیر نصابی سرگرمیاں وہ ہیں جن کا براہ راست نصاب سے تعلق نہیں ہوتا بلکہ وہ آپ کی کچھ مہارتیں نمایاں کرتی ہیں، زندگی کے بارے میں آپ کے تصورات صاف اور بہتر بناتی ہیں۔ انہی سے آپ مشکلات میں عزم، کام میں پہل اور ذمہ داری سیکھتے ہیں۔ سماجی اور خاندانی زندگی کے تصورات اور اتارچڑھاؤ کلاس روم میں تو نہیں سمجھے جاسکتے۔ غیرنصابی دنیا بہت وسیع ہے، اسے جس قدر پھیلایا جائے مفید ہوگا۔ انہی سرگرمیوں کے ذریعہ ہی تو ہر طالب علم جان لیتا ہے کہ اسے کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا ،ورنہ تو وہ محض سب کے ساتھ ایک ہی کتاب کی سطریں پڑھ رہا ہوتا ہے۔
پڑھائی کے دوران آنے والا وقفہ اسی وقت نتیجہ خیز ہوسکتا ہے اور خوش گوار بن سکتا ہے جب اس میں دور دراز جانے، کھیل کود، دوستوں سے ملنے اور معاشرے کے لیے کوئی مفید سرگرمی کی جائے۔ محض ٹی وی ، کمپیوٹر اور سمارٹ فون کی سکرین کچھ نہیں دے سکتی۔ انہی سے حکمت عملی بنانا، مقابلہ کرنا، ٹیم ورک ترتیب دینا، وعدے نبھانا، وقت کا اچھا استعمال اور نئی نئی دلچسپیاں تلاش کرنے کا موقع ملتا ہے۔
اسپورٹس کلبوں، سوسائٹیوں ، رضاکارانہ خدمات اور پارٹ ٹائم کام میں شامل ہونے سے کلاس روم کی پڑھائی، مطالعہ اور معاشرتی فہم بہت بہتر ہوجاتاہے۔ یہی تجربات وہ اعتماد دیتے ہیں جن کا مقابلہ کوئی لیکچر نہیں کرسکتا ۔ اول تو آپ اپنی دلچسپی کے مطابق کسی گروپ یا کلب میں شامل ہوجائیں ۔ دوم ، آپ ایک سوسائٹی میں شامل ہوئے مگر دلچسپی نہیں تھی لہٰذا اسے چھوڑ دیں اور دوسرے میں شامل ہوجائیں۔ ان مواقع کو حاصل کرنے کے لیے آپ فریش گریجوایٹس کے سیٹ اپ یا اوپن ہاؤس وغیرہ کا خیال رکھیں۔ اس کے علاوہ اپنے شعبے کے نوٹس بورڈ کا خیال رکھیں۔
ان کاموں میں بعض اوقات اخراجات آتے ہیں۔ کہیں فیس بھی ہوتی ہے۔ اس سے گھبرانا نہیں چاہیے۔ بعض طلبہ کہتے سنے گئے ہیں کہ یار چھوڑو اسے، یہ تو صرف کھانے پینے اور پیسے بنانےکے چکر ہیں۔ اس معاملے میں یاد رکھیں کہ دنیا کا کوئی کام مفت نہیں ہوتا۔ جہاں آپ ہزاروں اور لاکھوں فیس دے رہے ہوتے ہیں وہاں ان چند سو کی اہمیت نہیں ہوتی۔ انہی مواقع پر دوستیاں بنتی ہیں، روابط قائم ہوتے ہیں، مختلف پس منظر کے طلبہ سے ملاقات ہوگی، بات چیت کا موقع ملے گا، ٹیم ورک،تنظیم، مسائل سمجھنا اور حل کرنا ، وقت کے استعمال جیسی اعلیٰ مہارتیں Skills ملتی ہیں۔ اس سے آپ میں وہ اعتماد آئے گا جو دوسروں میں نہیں ہوگا۔
اس سے اگلا قدم ہے کہ آپ ان کلبوں، سوسائٹیوں اور دیگر تنظیموں کے عہدیدار بنیں۔ صدر، سیکرٹری، فنانس سیکرٹری وغیرہ۔ اگر آپ کو ان میں موقع نہ ملے تو آپ اپنا کلب یا سوسائٹی بنا سکتے ہیں۔ اداروں میں ان چیزوں پر پابندی نہیں ہوتی۔ اس بات کا خیال رکھیں کہ اس تنظیم کے مقاصد ، اہداف اور پروگرام کا مثبت ہونا ضروری ہے۔ کسی کے آلہ کار نہ بنیں۔ علاقائی اور لسانی گروہ بندی نہ کریں۔ اس طرح کام کریں کہ ہر جگہ اور ہر سطح کا طالب علم آپ کے ساتھ چلنا پسند کرے۔
رضاکارانہ کام
آج آپ اپنا وقت مفت فراہم کریں گے تو آنے والے وقت کے لیے آپ مہارت Skill حاصل کریں گے۔ کسی فلاحی تنظیم میں وقت دیں، کسی غیر منافع بخش ادارے میں کام کریں، ہسپتال، اسکول وغیرہ میں کام کریں۔ یہاں آپ کی قوت فیصلہ بڑھے گی، اعتماد میں اضافہ ہوگا اور مختلف شعبوں میں کام تلاش کرنے کا موقع ملے گا۔ کام کے دوران پیش آنے والے اہم واقعات کو یاد رکھیں یا نوٹ کریں ۔ یہ چیزیں انٹرویو میں کام آئیں گی۔ دوران تعلیم سب سے بہتر طریق کار جزو وقتی کلاس ہے۔ اس سے پڑھائی میں بھی حرج نہیں ہوتا اور آپ تجربہ بھی زیادہ حاصل کرلیتے ہیں۔
سی وی اچھی لگتی ہے
جب آپ غیر نصابی سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں تو نتیجے کے طور پر آپ کئی طرح کی مہارتیں سیکھتے ہیں جو آپ اعتماد کے ساتھ اپنے سی وی میں شامل کرتے ہیں۔ سی وی میں اپنی نوکری وغیرہ کو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نہیں کریں بلکہ اس نوکری سے حاصل ہونے والی مہارتوں Skills کو فروخت کریں۔ مثلاً آپ نے اسٹور پر کام کیاتو آپ Part Time Work of Store نہ لکھیں بلکہ اس میں کیے جانے والے کاموں اور حاصل ہونے والے تجربے کو سامنے لائیں۔ آپ کیش کا کنٹرول اور حساب اچھاجانتے ہیں ۔ آپ نے دوسرے اداروں سے لنک کیا۔
حقیقی دنیا سے واقفیت
غیر نصابی سرگرمیاں کلاس روم سے نکال کر آپ کو حقیقی دنیا سے واقف کرواتی ہیں جو ایک لحاظ سے کسی بھی طالب علم کے لیے بہترین مدد ہوتی ہے۔ یہی بات اس کے لیے کامیابی کی ضمانت بنتی ہے۔ لوگوں کے مزاج اور طرزعمل سے واقفیت ملتی ہے۔ اداروں کی اونچ نیچ بھی سامنے آجاتی ہے۔ اسی سے ہی دنیا کے بارے میں نقطہ نظر کو وسعت دینے کا موقع ملتا ہے۔
نیٹ ورکنگ
انسانی زندگی میں سب سے اہم کردا ر اس کے تعلقات کا ہے۔ یہ تعلقات نہ تو گھر بیٹھ کر بنتے ہیں اور نہ ہی کلاس روم میں رہ کر۔ جو طالب علم جتنا مختلف سرگرمیوں میں حصہ لے گا، اسی قدر اس کا حلقہ تعارف بڑھے گا۔ یہ نیٹ ورک ہم عصروں اور ہم جولیوں کا ہوگا، اس لیے پختہ اور دیرپا ہوگا۔ آنے والے وقت میں یہی نیٹ ورک بڑے بڑے اجتماعی کاموں کا ذریعہ بن جائے گا۔
کل پر نظر
غیر نصابی سرگرمیاں آپ کو بہت سارے فوائد دے رہی ہوتی ہیں۔ انہی میں ایک کل کو دیکھنے کی صلاحیت ہے۔ اسی وجہ سے آپ آج کی بات نہیں کرتے۔ آپ ہر ہفتہ اور اتوار کو نئی نئی سرگرمیاں شروع کرنے کی بجائے اپنی ایک دو چیزوں پر توجہ دیتے ہیں۔ اسی طرح آپ میں ایک ایسا جذبہ پیدا ہوجاتا ہے جو کسی وقتی ضرورت اور فائدے سے بے نیاز ہو کر چلتا ہے۔ اسی طرح آپ قیادت کی حقیقت کو پہچان لیتے ہیں۔
دوبارہ شروع کرنا
انسانی زندگی میں کامیابی اور ناکامی ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ آپ دیکھتے ہیں لوگ گر کر اٹھ نہیں پاتے، آخر کیوں؟ انہیں گرنے اور گر کر اٹھنے کا تجربہ نہیں ہوتا۔ اس کا بہترین تجربہ غیر نصابی سرگرمیوں میں ہوتا ہے۔ان میں کامیابی اور ناکامی ملتی ہے اور ناکامی کے بعد دوبارہ تیاری سے کامیابی لینے کا حوصلہ ملتا ہے۔ کامیابی اور ناکامی میں اپنی اخلاقیات اور اقدار کا لحاظ بھی رکھنا لازمی ہوتا ہے۔
زندگی کی ضروری مہارتیں
اسکول اور کالج کی غیر نصابی سرگرمیاں آپ کو حقیقی دنیا کی مہارتیں سکھا دیتی ہیں ۔ کلاس روم کے سبق فطری اعتبار سے کچھ سکھاتے ہیں مگر عملی اور تجرباتی طور پر جو باتیں ملتی ہیں۔ ان میں کام کے مقصد کا تعین کرنے کا فن سیکھنا، ٹیم بنانا اور ٹیم ورک کرنا، وقت کا صحیح استعمال کرنا یعنی صحیح کام صحیح وقت پر، ترجیحات کو ترتیب دینا، مسائل سمجھنا اور ان کا مناسب حل پیش کرنا، کسی بھی معاملے میں صحیح اور غلط کا تجربہ کرنا اور ایسا حل دینا ، وقت اور حالاتِ حاضرہ میں درست ترین حل دینا۔ یہ سرگرمیاں آپ میں قائدانہ صلاحیتیں پیدا کرتی ہیں اور ساتھ ہی ساتھ جوابی خطابت کے بہترین مواقع میسرآتے ہیں۔
بہتر تعلیمی کارکردگی
بعض طلبہ اور ان کے والدین کو یہ خدشہ رہتا ہے کہ ان کاموں میں وقت ضائع ہوتا ہے۔ ریسرچ بتاتی ہے کہ جو طلبہ ان سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں ان کے گریڈز بھی بہتر ہوتے ہیں اور عملی زندگی بھی۔ اس لیے کہ ان کی قوت برداشت مضبوط، بہترین توجہ اور اہتمام کرتے ہیں ۔ تعلیم اور بہتر کارکردگی کی خواہش ان میں زندہ رہتی ہے۔