زکوۃ کا حساب اور ادائیگی-آسان طریقہ

زکوٰۃ کے حساب اور ادائیگی کا آسان طریقہ

زکوٰۃ کے حساب کے لیے ہجری سال کی ایک تاریخ مقرر کر لیں او رہر سال اسی تاریخ کو حساب کیا کریں۔حساب لگانے سے پہلے دو چیزوں کو سمجھ لیں۔
1: قابلِ زکوٰۃ اموال اور اثاثہ جات۔ 2: مالیاتی ذمہ داریاں یعنی جو رقم قابلِ زکوٰۃ اموال سے کم کرنی ہے۔
قابل زکوٰۃ اشیاء اور اثاثہ جات:
۱:سونا چاندی، کسی بھی شکل میں ہوں اور کسی بھی مقصد کے لیے ہوں۔ کھوٹ اور نگینے نکال کر ان کی جو مالیت بنے وہ نوٹ کرلیں۔ ۲:گھر میں یا جیب میں موجود رقم۔ ۳: بینک اکاؤنٹ یا لاکر میں موجود رقم۔ ۴:غیر ملکی کرنسی کی موجودہ مالیت۔۵:پرائز بانڈ ۶: مستقبل کے کسی منصوبے(حج بچوں کی شادی وغیرہ) کے لیے جمع شدہ رقم۔۷:تکافل یا انشورنس پالیسی میں جمع شدہ رقم۔۸:جو قرض دوسروں سے لینا ہے۔ ۹:کمیٹیBCکی جو رقم جمع کراچکے ہیں اور ابھی کمیٹی نہیں نکلی۔۱۰: کسی بھی چیز کے لیے ایڈوانس میں دی گئی رقم جب کہ وہ چیز ابھی ملی نہ ہو۔۱۱: سرمایہ کاری ، مضاربت، شراکت میں لگی ہوئی رقم۔۱۲: شئیرز، سیونگ سرٹیفیکیٹس، این آئی ٹی یونٹس، این ڈی ایف سیونگ سرٹیفیکیٹس، پراویڈنٹ فنڈ کی وصول شدہ یاکسی اور ادارے میں مالک کے اختیار سے منتقل شدہ رقم۔۱۳: مالِ تجارت یعنی دکان ، گودام یا فیکٹری میں جو سٹاک قابلِ فروخت ہے اس کی موجودہ قیمت۔۱۴:خام مال جو فیکٹری ، دکان یاگودام میں موجود ہ ہے، اس کی موجودہ قیمت۔۱۵: فروخت شدہ مال کے بدلہ میں حاصل شدہ اشیاء کی مالیت اور فروخت شدہ مال کی قابلِ وصول رقم۔۱۶: فروخت کرنے کی نیت سے خریدے گئے پلاٹ، گھر یا دکان کی موجودہ قیمت۔
اوپر ذکر کردہ تمام اشیاء کی کل مالیت کا حساب نکال کر ٹوٹل کرلیں۔
مالیاتی ذمہ داریاں یعنی جو رقم قابلِ زکوٰۃ اموال سے کم کرنی ہے:
۱:قرض جو ادا کرنا ہے یعنی ادھار لی ہوئی رقم۔۲:ادھار خریدی ہوئی چیزوں کی رقم ادا کرنی ہے۔۳:بیوی کا حق مہر جو ابھی ادا کرنا ہے۔۴:پہلے سے نکلی ہوئی کمیٹی BCکی جو بقیہ قسطیں ادا کرنی ہیں۔۵:آپ کے ملازمین کی تنخواہیں جو اس تاریخ تک واجب الاداہوں۔۶: ٹیکس ، دکان مکان وغیرہ کا کرایہ، یوٹیلٹی بلز وغیرہ جو اس تاریخ تک واجب الادا ہوں۔۷:گذشتہ برسوں کی زکوٰۃ جو ابھی ادا نہیں کی گئی۔
مذکورہ تمام اشیاء کی کل مالیت کا حساب نکال کر ان کا بھی ٹوٹل کر لیں۔
اب قابلِ زکوٰۃ اشیاء کی کل مالیت سے یہ بعد والی رقم یعنی مالیاتی ذمہ داریوں والی رقم تفریق کردیں۔ جو جواب آئے اس کو چالیس(40) پر تقسیم کردیں پھر جو جواب آئے وہ آپ کے ذمہ واجب الادا زکوٰۃ کی کل رقم ہے۔ آپ یہ رقم اکٹھی بھی دے سکتے ہیں اور تھوڑی تھوڑی کر کے بھی ادا کر سکتے ہیں۔
کس کو زکوٰۃ نہیں دے سکتے؟
زکوٰۃ کی رقم حضرت نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کے خاندان کے لیے حلال نہیں۔ آپ کے خاندان سے مراد ہیں: آلِ علی، آلِ عقیل، آلِ جعفر، آلِ عباس اور آلِ حارث بن عبدالمطلب رضی اﷲ عنہم۔ جو شخص مذکورہ پانچ بزرگوں کی نسل سے ہو اسے زکوٰۃ نہیں دے سکتے، ان کی مدد کسی اور ذریعے سے کرنی چاہیے۔کافر کو زکوٰۃ دینا جائز نہیں۔ایسی NGO,sاور ادارے جو شرعی حدود کا لحاظ نہیں کرتے، انھیں زکوٰۃ دینا جائز نہیں۔شوہر اور بیوی ایک دوسرے کو زکوٰۃ نہیں دے سکتے۔اپنے آباء واجداد یعنی ماں باپ، دادا دادی، نانا نانی وغیرہ اور اپنی آل اولاد یعنی بیٹا بیٹی، پوتا پوتی، نواسہ نواسی وغیرہ کو زکوٰۃ دینا جائزنہیں۔ ان کے علاوہ بھائی بہن اور باقی رشتہ داروں کو زکوٰۃ دے سکتے ہیں۔مسجد میں زکوٰۃ کی رقم نہیں دے سکتے۔
زکوٰۃ کس کو دے سکتے ہیں؟
ہر ایسے مسلمان کو جس کی ملکیت میں ساڑھے باون تولے (612.36گرام) چاندی یا اس کی مالیت کے بقدر سونا، نقد رقم، مالِ تجارت یا روز مرہ کی استعمال سے زائد اشیاء نہ ہوں وہ زکوٰۃ اور صدقات واجبہ کا مستحق ہے۔
زکوٰۃ کا بہترین مصرف:
۱:آپ کے مستحق رشتہ دار ہیں اس میں بھی دہرا ثواب ہے صلہ رحمی کا اور ادائیگی زکوٰۃ کا۔
۲:دینی مدارس ہیں اس میں دگنا ثواب ہے اشاعت و تحفظ دین کا اور ادائیگی زکوٰۃ کا۔
مولانا اعجاز صمدانی
نقشہ برائے ادائیگی زکوٰۃ

(الف) وہ اثاثے جن پر زکوٰۃ واجب ہے:
(۱) سونا (خواہ کسی شکل میں ہو)————————————–مثلاً اِس کی قیمت:50,000/-
(۲) چاندی (خواہ کسی شکل میں ہو)————————————–؍؍10,000/———–
(۳) مالِ تجارت یعنی بچینے کی حتمی نیت سے خریدا ہوا مال، مکان، زمین(۱)300,000/- ——————
(۴) بینک میں جمع شدہ رقم100,000/- ——————————————————-
(۵) اپنے پاس موجود نقد رقم100,000/- ——————————————————
(۶) ادھار رقم (جس کے ملنے کا غالب گمان ہو)
خواہ نقد رقم کی صورت میں دی ہو یا مالِ تجارت بیچنے کی وجہ سے واجب ہوئی ہو50,000/- ————-
(۷) غیر ملکی کرنسی (موجودہ ریٹ سے) 10,000/- ———————————————–
(۸) کمپنی کے شیئرز جو تجارت (Capital Gain)کی نیت سے خریدے ہوں۔
ان کی پوری قیمت(موجودہ مارکیٹ ویلیو)50,000/- —————————————-
(۹) جو شیئرز نفع (Dividend)کی غرض سے خریدے گئے، ان میں کمپنی کے ناقابل زکوۃ اثاثے
(Operating Assets)جیسے بلڈنگ، مشینری وغیرہ کو منہا کیا جاسکتا ہے۔
(اور بہتر یہ ہے کہ احتیاطاً ان کی پوری قیمت لگائی جائے)50,000/- —————————–
(۱۰) بچت سرٹیفکیٹ جیسے FEBC, NDFC, NIT(صرف اصل رقم پر زکوٰۃ ہو گی)(۲)100,000/- —
(۱۱) کسی جگہ اپنی امانت رکھوائی ہوئی رقم، سونا، چاندی، مال تجارت10,000/- ————————-
(۱۲) کمیٹی (بیسی) میں اپنی جمع شدہ رقم۔ (جبکہ بیسی وصول نہ ہوئی ہو)10,000/- ———————-

(۱) اگر بیچنے کی نیت نہ ہو بلکہ کرایہ پر دے کر کمانے کی نیت ہویا ویسے ہی سرمایہ محفوظ کرنے کے لیے کوئی جائیداد خریدی تو زکوٰۃ واجب نہ ہوگی۔
(۲) اگرچہ موجودہ حالات میں ان کا خریدنا جائز نہیں۔
(۱۳) خام مال جو مصنوعات بنا کر فروخت کرنے کے لیے خریدا گیا200,000/- ————————-
(۱۴) تیار شدہ مال کا اسٹاک20,000/- ——————————————————–
(۱۵) کاروبار میں شراکت کے بقدر حصہ (قابل زکوٰۃ اثاثوں کی مالیت مع نفع)50,000/- —————-
کل مالِ زکوٰۃ کی مالیت رقم کی شکل میں11,10,000/- ———
(ب) جو رقم منہا کی جائے گی:
(۱) واجب الادا ء قرضہ(۱)———————————-مثلاً10,000/- ——————
(۲) کمیٹی (بیسی) کے بقایا جات۔ (اگر یہ کمیٹی مل چکی ہو)———؍؍100,000/- —————–
(۳) یوٹیلیٹی بلز جو زکوٰۃ نکالنے کی تاریخ تک واجب ہوچکے ہوں——؍؍10,000/- ——————-
(۴) پارٹیوں کی ادائیگیاں جو ادا کرنی ہوں ———————-؍؍100,000/- ——————
(۵) ملازمین کی تنخواہیں، جو زکوٰۃ نکالنے کی تاریخ تک واجب ہوچکی ہوں100,000/- ——————
(۶) گزشتہ سال کی زکوٰۃ کی رقم، اگر ابھی تک ذمہ باقی ہو10,000/- ——————————–
(۷) قسطوں پر خریدی ہوئی چیز کی واجب الاداء قسطیں10,000/- ———————————–
_________________________________________________________
وہ کل رقم جو منہا کی جائے گی3,80,000/- ———-
کل مالِ زکوٰۃ (رقم)11,10,000/- ————–
وہ رقم جو منہا کی جائے گی-3,80,000/- ————
وہ رقم جس پر زکوٰۃ واجب ہے7,80,000/- ———
مقدار زکوٰۃ: (قابلِ زکوٰۃ رقم کو چالیس پر تقسیم کریں)18,250/- ————

نوٹ: یہاں تمام رقوم کو بذریعہ مثال واضح کیا گیا ہے۔ آپ اپنے اموال کی حقیقی قیمت درج کرکے مندرجہ بالا طریقہ اختیار کریں۔ آپ ان اموال کی قیمت درج فرمائیں جو آپ کے پاس موجود ہوں اور مذکورہ نمونے کے مطابق زکوٰۃ کا حساب نکالیں۔
(۱) البتہ وہ بڑے بڑے پیداواری قرضے جن سے ناقابلِ زکوٰۃ اموال خریدے جائیں، منہا نہ ہوں گے۔ (اسلام اور جدید معیشت وتجارت ص ۹۴)

Leave a Comment